بلوچستان حکومت نے صوبے میں شام 5 بجے سے صبح 5 بجے تک پبلک ٹرانسپورٹ چلانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے ٹرانسپورٹ مالکان اور کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں ہدایت جاری کی گئی ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اس فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ملک کے دیگر حصوں کے لیے ٹرین سروس سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مسلسل چوتھے روز بھی معطل ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین سروس 14 اگست تک بحال نہیں کی جائے گی۔
اسی طرح، حکومت نے صوبے کی قومی شاہراہوں پر بھی شام 5 بجے سے صبح 5 بجے تک عوامی ٹرانسپورٹ کے چلنے پر پابندی لگا دی ہے۔ صوبے کی تمام سڑکوں پر اس وقت کے دوران کسی بھی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑی کو چلانے کی اجازت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ کمپنی کا روٹ پرمٹ منسوخ کر دیا جائے گا۔
صوبائی سیکریٹری ٹرانسپورٹ محمد حیات کاکڑ نے ٹرانسپورٹ سے متعلق اجلاس میں واضح کیا کہ رات کے سفر پر عائد اس پابندی پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔ اس سلسلے میں صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں رات کے وقت عوامی ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔