وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستانی دنیا میں سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں جبکہ کسی بھی مضبوط اور مستحکم معیشت کی بنیاد ٹیکسوں کی ادائیگی، برآمدات کے فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری پر رکھی جاتی ہے۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف دو سال قبل ملک کو انتہائی بحرانی کیفیت کا سامنا تھا، اور یکم اپریل 2022 کو پاکستان اندرونی طور پر ڈیفالٹ کی کیفیت میں جا چکا تھا۔ اس وقت یہ سوال گردش کر رہا تھا کہ بیرونی ڈیفالٹ کب ہوتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ قوم نے اس مشکل وقت میں حکومت کے مشکل فیصلوں میں ساتھ دیا اور آج حالات بہتر سمت کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود جو پہلے 22 فیصد پر تھی اب کم ہو کر 11 فیصد تک آگئی ہے اور ہر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی معیشت کے بارے میں مثبت ریٹنگ جاری کی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک نئی مہلت ملی ہے تاکہ معیشت کو بہتر سمت میں لے جایا جا سکے۔ اس سے پہلے بھی تین بار ہم نے ترقی کی کوشش کی لیکن وہ کریش ہوگئیں۔ اس وقت ضمنی انتخابات میں حکومت مشکلات کا شکار تھی جبکہ ہماری سیاسی مقبولیت اپنے عروج پر تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے آج بھی ہمیں قرض لینا پڑتا ہے، بجٹ خسارہ چھ فیصد سے زیادہ ہے اور ہماری برآمدات ابھی تک دنیا کے مقابلے میں نہیں بڑھ سکیں۔ بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے بھی سخت مقابلہ درپیش ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ماضی میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت 60 فیصد آمدنی صوبوں کو منتقل ہو جاتی تھی اور باقی 40 فیصد قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتی تھی۔ تاہم گزشتہ دو سال میں کی گئی اصلاحات سے 2800 ارب روپے کی اضافی گنجائش پیدا کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں 2500 ارب روپے کا دفاعی بجٹ حکومت خود برداشت کر رہی ہے۔