سندھ ہائیکورٹ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی سیل شدہ عمارت کو ازخود ڈی سیل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ متعلقہ عمارت کو 48 گھنٹوں کے اندر خالی کیا جائے۔
عدالت میں سماعت کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر ایس بی سی اے نے رپورٹ جمع کرائی جس میں انکشاف کیا گیا کہ رہائشی نوعیت کی اس عمارت میں اسکول چلانے کے باعث 2023 میں اسے سیل کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس عمارت کو اس سے قبل 2018 میں بھی کمرشل سرگرمیوں کے باعث بند کیا جا چکا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ایس بی سی اے کی لگائی گئی سیل کو عمارت کے مالک یا کرایہ دار نے ازخود ہٹا دیا تھا، جس کے بعد 13 اگست کو دوبارہ اس عمارت کو سیل کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ فیلڈ اسٹاف نے کئی بار عمارت کا معائنہ کیا لیکن کسی قسم کی کمرشل سرگرمی کی واضح رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ معائنے کے دوران ہر بار عمارت کا دروازہ اندر سے بند پایا گیا۔
ایس بی سی اے کی جانب سے کہا گیا کہ ازخود ڈی سیل کرنے کے معاملے پر فوجداری کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسی بنا پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ عمارت کو لازمی طور پر 48 گھنٹوں کے اندر خالی کر دیا جائے۔