امریکا میں جاری ویزا کریک ڈاؤن نے پاکستانی طلبہ اور دیگر ویزا ہولڈرز کو شدید پریشانی اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ اب محض معمولی نوعیت کی خلاف ورزی، سیاسی سرگرمیوں میں شمولیت یا نامکمل دستاویزات بھی ان کے ویزے اور قیام کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کیسز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی یا کسی کیمپس میں احتجاج میں شمولیت کی اطلاع براہ راست امریکی محکمہ برائے ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کو دی جا سکتی ہے، جس نے پاکستانی کمیونٹی کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
شمالی ورجینیا میں دو پاکستانی طلبہ اُس وقت حیران رہ گئے جب ٹریفک کورٹ کے جج نے انہیں بتایا کہ عدالتیں اب ٹریفک خلاف ورزیوں کا ریکارڈ ڈی ایچ ایس کے ساتھ شیئر کرنے کی پابند ہیں۔ اسی طرح بالٹی مور میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے طالب علم یونس خان نے کہا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شکاگو جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے، مگر انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اس سے گریز کریں، کیونکہ معمولی غلطی بھی ویزے کی منسوخی کا سبب بن سکتی ہے۔
سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بھی سخت جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ امریکا مخالف یا انتہا پسندانہ مواد سامنے آنے کی صورت میں سخت اقدامات کیے جا سکیں۔ پاکستانی سفارتخانے نے کہا ہے کہ وہ صورت حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور طلبہ کو سیاسی سرگرمیوں میں احتیاط کرنے کی ہدایت دی ہے۔
فلسطین کے حق میں احتجاج میں شریک طلبہ خاص طور پر پریشانی میں مبتلا ہیں۔ بالٹی مور کی ثمینہ علی نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی ان مظاہروں میں شامل ہوئے تھے اور اب یہ خدشہ ہے کہ کہیں ملک بدری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جارج میسن یونیورسٹی کے محمد ساجد کا کہنا ہے کہ زیادہ تر طلبہ پارٹ ٹائم کام کرکے ٹیوشن فیس ادا کرتے ہیں، لیکن اب یہ خدشہ ہے کہ شاید وہ کام جاری نہ رکھ سکیں۔
سیاسی پناہ کے تحت امریکا میں موجود پاکستانی بھی اس صورتحال میں مزید دباؤ اور غیر یقینی کے شکار ہیں۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق امریکا میں تقریباً سات سے دس لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، جن میں اکثریت شہری یا طویل مدتی رہائشی ہے، جبکہ درست اعداد و شمار اس لیے معلوم نہیں ہو پاتے کیونکہ بہت سے افراد نے باضابطہ رجسٹریشن نہیں کروائی۔
انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں امریکا میں 11 لاکھ 26 ہزار سے زائد غیر ملکی طلبہ موجود تھے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں سے پاکستان سے تقریباً 11 ہزار طلبہ امریکا گئے، جبکہ بنگلہ دیش اور نیپال سے طلبہ کی تعداد اس سے کہیں زیادہ رہی۔
وسیع تر کریک ڈاؤن کے حصے کے طور پر امریکی حکام سوشل میڈیا سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ امریکا کی حکومت، اداروں یا شہریوں کے خلاف کسی بھی قسم کی دشمنی کے آثار سامنے آنے پر سخت ایکشن لیا جا سکے۔
امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز کے ترجمان میتھیو ٹریگیسر نے کہا کہ امریکا کی سہولتیں ان افراد کو نہیں دی جانی چاہئیں جو اس ملک سے نفرت کرتے ہیں یا مخالف نظریات کو فروغ دیتے ہیں۔ اسی طرح، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ٹرک ڈرائیوروں کے ورک ویزے کے اجرا پر پابندی کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ اقدام امریکی روزگار اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
اس سخت پالیسی نے پاکستانی طلبہ اور دیگر ویزا ہولڈرز کو اپنے مستقبل کے حوالے سے مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی حکام کے مطابق انہیں مسلسل سوالات موصول ہو رہے ہیں جنہیں امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے، جبکہ سفارتخانہ طلبہ کو قانونی دستاویزات مکمل رکھنے، حقوق سے آگاہ رہنے اور سیاسی سرگرمیوں میں غیر ضروری شمولیت سے گریز کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔