ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا ہے کہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے، جہاں اس وقت پانی کا بہاؤ ایک لاکھ اکاون ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوگا، جو بڑھ کر دو لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق دریائے ستلج، راوی اور چناب میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے سینکڑوں دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مختلف حادثات اور واقعات کے نتیجے میں اب تک پندرہ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ لاہور، چوہنگ، ہنجروال اور مانگا منڈی کے علاقے بھی اس وقت شدید سیلابی صورتحال سے دوچار ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک چھ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے ڈیڑھ لاکھ افراد اور پینتیس ہزار سے زائد مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔ ادارے نے الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دریائے چناب پر ہیڈ قادر آباد کو شدید خطرہ لاحق ہے، اس لیے قریبی بستیوں کو خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ہیڈ قادر آباد کو بچانے کے لیے دریا کے دو بند دھماکے سے توڑے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں حافظ آباد، وزیر آباد اور پھالیہ کے علاقے متاثر ہوں گے۔
محکمہ فلڈ کنٹرول کے مطابق ہیڈ خانکی پر پانی کی سطح آٹھ لاکھ انسٹھ ہزار کیوسک تک پہنچ گئی ہے جبکہ جسڑ کے مقام پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ چھاسٹھ ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح بلوکی ہیڈورکس پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور وہاں پانی کا بہاؤ تراسی ہزار کیوسک ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا ہے کہ دریائے راوی کے کناروں پر بسنے والے تمام مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شہریوں کو دریا کے اطراف غیر ضروری طور پر جمع نہ ہونے دیا جائے۔ ساتھ ہی عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ حفاظتی اقدامات اختیار کریں، سیلابی علاقوں سے دور رہیں اور دریاؤں کے اطراف سیر و تفریح سے گریز کریں۔
دریائے چناب میں بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ تریموں پر پانی کی آمد نوے ہزار سات سو پچھتر کیوسک اور اخراج اٹھاسی ہزار تین سو پچھتر کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چند گھنٹوں میں چنیوٹ سے انسٹھ ہزار چار سو دس کیوسک کا ریلہ جھنگ پہنچنے والا ہے، جس کے لیے ریلیف سرگرمیاں تیز کردی گئی ہیں اور اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔
محکمہ آبپاشی کی رپورٹ کے مطابق مرالہ بیراج پر پانی کی آمد ایک لاکھ اکانوے ہزار نو سو بارہ کیوسک اور اخراج ایک لاکھ پچاسی ہزار چار سو بارہ کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خانکی بیراج پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے، جس نے قریبی علاقوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔