کراچی میں سرکاری اہلکار پر مبینہ تشدد کے مقدمے میں گرفتار صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کے بھائی فرحان غنی سمیت دیگر دو ملزمان کو پولیس تھانے سے رہا کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق فرحان غنی کے وکیل وقار عالم عباسی ایڈووکیٹ نے تینوں ملزمان کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ رہائی مدعی کی جانب سے مقدمہ واپس لینے کے بعد عمل میں آئی۔
تفصیلات کے مطابق مدعی حافظ سہیل احمد جدون نے تحریری طور پر مقدمہ واپس لینے کی درخواست تفتیشی افسر کو جمع کرائی تھی۔ مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ فرحان غنی اور دیگر افراد نے آپٹیکل فائبر کیبل کے کام کی نگرانی کرنے والے سرکاری اہلکار پر حملہ کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کی فوٹیج بھی منظرِ عام پر آئی تھی، جس نے معاملے کو مزید نمایاں کر دیا۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ کراچی کے فیروز آباد تھانے میں درج کیا گیا تھا، جس میں سعید غنی کے بھائی اور چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی سمیت کئی افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ بعدازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ 30 اگست تک منظور کیا تھا اور ان پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
تاہم مدعی کی جانب سے مقدمہ واپس لینے کے بعد تینوں ملزمان کو رہا کر دیا گیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کیس میں شامل خواتین کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔