کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں آج ایک اہم پیشی ہوئی، جہاں سعید غنی کے بھائی اور ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی اپنے دیگر ساتھی ملزمان کے ہمراہ سرکاری ملازمین پر تشدد اور دھمکانے کے مقدمے میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت نے فرحان غنی کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے کی اجازت دے دی۔
سماعت کے آغاز میں وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان عدالتی حکم پر پیش ہو گئے ہیں، لہٰذا ان کی درخواست منظور کی جائے۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اگر انسداد دہشت گردی کی دفعہ (اے ٹی اے) کیس سے حذف کرنا تھی تو اسے شامل کیوں کیا گیا؟ عدالت نے مزید کہا کہ ایسی صورت میں معاملہ براہِ راست مجسٹریٹ کے سامنے رکھا جانا چاہیے تھا۔
وکیل صفائی نے مؤقف اپنایا کہ عدالت مجسٹریٹ کو حکم دے تاکہ وہ اس کیس کو دیکھے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ سنایا جائے گا۔ بعد ازاں وکیل صفائی نے استدعا کی کہ ان کے مؤکل کو عمرہ پر جانے کی اجازت دی جائے۔
عدالت نے فرحان غنی سے سوال کیا کہ وہ کب روانہ ہوں گے اور کب واپس آئیں گے۔ جس پر فرحان غنی نے جواب دیا کہ وہ کل صبح عمرہ کی ادائیگی کے لیے جا رہے ہیں اور 19 ستمبر کو واپسی ہو گی۔ عدالت نے مزید پوچھا کہ ان کی ٹکٹ کنفرم ہیں؟ تو فرحان غنی نے کہا جی ہاں۔ عدالت نے کہا کہ پھر آئندہ سماعت 20 ستمبر کو رکھی جاتی ہے۔ تاہم، فرحان غنی نے استدعا کی کہ سماعت 22 ستمبر کو مقرر کی جائے۔
عدالت نے ان کی گزارش منظور کرتے ہوئے سماعت 22 ستمبر کو مقرر کر دی۔ وکیل صفائی نے یہ بھی کہا کہ آئندہ سماعت پر فرحان غنی کو حاضری سے استثنیٰ دیا جائے، مگر عدالت نے زبانی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس رپورٹس کی روشنی میں فیصلہ آئندہ سماعت پر کیا جائے گا۔
بعد ازاں عدالت نے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کر دی۔