بھارت کے شمالی علاقوں میں جاری مون سون کی شدید بارشوں نے ایک قومی تباہی کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں حکام نے متعدد ریاستوں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ موسلا دھار بارشوں نے پنجاب، ہماچل پردیش، دہلی، اترپردیش اور اتراکھنڈ سمیت شمالی ریاستوں میں زندگی کے معمولات بری طرح متاثر کیے ہیں، جہاں لاکھوں افراد اس قدرتی آفت سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔
بھارتی ریاست پنجاب کے بارہ اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں، جہاں سینکڑوں مکانات اور بنیادی سڑکیں زیر آب آ گئی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق صرف پنجاب میں ہی ڈھائی لاکھ سے زائد افراد اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے، جہاں وسیع رقبے پر لگی فصلیں سیلابی پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ دریائے راوی، ستلج اور بیاس جیسے اہم دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حدوں سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے مزید تباہی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
صورت حال سب سے زیادہ ہماچل پردیش میں تشویشناک ہے، جہاں مختلف سیلابی حادثات میں 320 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاست کو سرکاری طور پر آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ دارالحکومت دہلی میں بھی دریائے جمنا میں پانی کا لیول خطرے کے نشان سے اوپر جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقے مکمل طور پر زیر آب آ گئے ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر دہلی میں تمام اسکول اور دفاتر عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
چندی گڑھ میں سکھنا جھیل کے فلڈ گیٹ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ہریانہ ریاست اور گروگرام شہر میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آنے والے سات دنوں کے دوران مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس سے صورتحال کے مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکام نے عوام سے ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔