افغانستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی المناک تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے بعد ملک میں ایک قومی المیہ پیدا ہو گیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار چار سو گیارہ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ تین ہزار دو سو پچاس سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
افغان حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز آنے والے ہولناک زلزلے میں چودہ سو سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد تین ہزار دو سو اکاون تک پہنچ چکی ہے۔ ہلال احمر افغانستان کے ترجمان کے مطابق زلزلے سے آٹھ ہزار سے زائد رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔
زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان صوبہ کنڑ میں ہوا ہے جہاں کم از کم چھ اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ زلزلے کے نتیجے میں کم از کم پانچ صوبوں میں اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور بہت سے لوگ اپنی چھتوں کے ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
گزشتہ روز افغانستان میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.0 ریکارڈ کی گئی جس کا مرکز وسطی افغانستان میں تھا جبکہ اس کی گہرائی 8 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ بعد میں 4.5 شدت کے آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔ صوبہ کنڑ کے چھ اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں جہاں تین گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ جلال آباد شہر اور دیگر صوبے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔