چین کے دارالحکومت میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور شمالی کوریا کے سپریم رہنما کم جونگ ان کے درمیان ایک اہم دو طرفہ ملاقات منعقد ہوئی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دو طرفہ تعلقات اور مستقبل کے تعاون کے امکانات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اس اہم موقع پر روسی صدر نے زور دے کر کہا کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان نہ صرف گہرے دوستانہ تعلقات موجود ہیں بلکہ دونوں ممالک نے حال ہی میں فوجی تعاون کے میدان میں بھی اہم پیشرفت حاصل کی ہے۔
روسی صدر پیوٹن نے اپنے بیان میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ شمالی کوریا کی فوجی افواج نے کرسک علاقے کی آزادی کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کی خدمات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کے فوجیوں نے انتہائی مشکل حالات میں بے مثال بہادری اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کیا۔ روسی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک مل کر جدید نازی ازم کے خلاف ایک مشترکہ جدوجہد میں مصروف ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔
اس موقع پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اپنے خطاب میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات نہ صرف مستحکم ہو رہے ہیں بلکہ تمام شعبوں میں مسلسل ترقی اور توسیع کا رجحان واضح ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ روس کی ہر ممکن مدد کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر 2024 کے جون میں طے پانے والے معاہدے کی نشاندہی کی، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں نمایاں اضافہ اور مضبوطی آئی ہے۔
کم جونگ ان نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور وسعت دینے کے لیے سخت محنت اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے مفادات کو بہتر طریقے سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔