محکمہ موسمیات نے اعلان کیا ہے کہ 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک انتہائی منفرد موقع آنے والا ہے، کیونکہ اس دوران مکمل چاند گرہن ہوگا، جس کا مشاہدہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی خطوں میں واضح طور پر کیا جا سکے گا۔ یہ مظہر ان افراد کے لیے بھی یادگار ہوگا جو فلکیاتی مناظر کو قریب سے دیکھنے اور محفوظ کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کی تفصیلات کے مطابق چاند گرہن کا مشاہدہ نہ صرف ایشیا اور یورپ جیسے بڑے براعظموں میں کیا جا سکے گا بلکہ آسٹریلیا اور افریقہ کے اکثر حصے بھی اس منظر کے گواہ بنیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ شمالی امریکا کے مغربی علاقے اور جنوبی امریکا کے مشرقی خطے بھی اس مظہر کو دیکھ سکیں گے، جبکہ بحرالکاہل، بحرِ اوقیانوس، بحرِ ہند، آرکٹک اور انٹارکٹیکا میں موجود افراد کے لیے بھی یہ منظر قابلِ دید ہوگا۔
پاکستانی وقت کے مطابق چاند گرہن کا آغاز 7 ستمبر کو رات 8 بجکر 28 منٹ پر ہوگا جب چاند کی روشنی مدھم ہونا شروع ہو جائے گی۔ اس کے بعد رات 9 بجکر 27 منٹ پر چاند پر جزوی گرہن کا سایہ پڑنا شروع ہو گا، جو آہستہ آہستہ بڑھتا ہوا 10 بجکر 31 منٹ پر مکمل گرہن میں تبدیل ہو جائے گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گرہن کا سب سے اہم اور دلچسپ مرحلہ 11 بجکر 12 منٹ پر ہوگا جب یہ اپنے عروج پر پہنچے گا اور چاند مکمل طور پر زمین کے سائے میں ڈھک جائے گا۔ یہ مرحلہ تقریباً 40 منٹ تک جاری رہے گا اور 11 بجکر 53 منٹ پر ختم ہو جائے گا۔ تاہم اس کے بعد بھی چاند جزوی گرہن کی حالت میں رہے گا، جو 12 بجکر 57 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا۔
پورا فلکیاتی مظہر پاکستانی وقت کے مطابق رات 1 بجکر 55 منٹ پر مکمل طور پر ختم ہوگا، یعنی چاند اپنی اصل روشن حالت میں واپس آ جائے گا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ مظہر عوام کے لیے ایک شاندار موقع ہے کہ وہ قدرت کے اس نایاب اور حسین کھیل کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں۔