راولپنڈی کی مقامی عدالت نے ایک لرزہ خیز مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم عرفان عظیم کو کم عمر بچے کے اغوا، زیادتی اور بہیمانہ قتل کے جرم میں تین بار سزائے موت اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ یہ فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے سنایا، جنہوں نے تحریری فیصلے میں مجرم کے سنگین جرائم اور ان کے ٹھوس شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے سخت ترین سزا دینے کا حکم دیا۔
فیصلے کے مطابق، عرفان عظیم کو قتل کے الزام میں سزائے موت دی گئی، جبکہ زیادتی کے جرم میں بھی ایک اور سزائے موت کے ساتھ پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ اسی طرح اغوا کے جرم میں بھی عدالت نے سزائے موت کے ساتھ پانچ لاکھ روپے جرمانہ سنایا، یوں مجرم کو مجموعی طور پر تین بار سزائے موت اور دس لاکھ روپے مالی جرمانے کی سزا دی گئی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، ملزم نے مارچ 2023ء میں تھانہ دھمیال کے علاقے سے تیرہ سالہ لڑکے کو اغوا کیا، اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر چھری کے پے در پے وار کر کے قتل کر دیا۔ پولیس نے تحقیقات کے دوران ناقابلِ تردید شواہد اکٹھے کیے اور استغاثہ نے مؤثر پیروی کرتے ہوئے عدالت کو قائل کیا، جس کے نتیجے میں جرم مکمل طور پر ثابت ہو گیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جرم کی سنگینی اور اس کے سماجی اثرات اس قدر شدید ہیں کہ ملزم کے لیے نرمی کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔ جج نے حکم دیا کہ مجرم کو پھانسی پر اس وقت تک لٹکایا جائے جب تک اس کی موت واقع نہ ہو، تاکہ یہ فیصلہ معاشرے میں ایک واضح پیغام دے کہ ایسے گھناؤنے جرائم کسی طور برداشت نہیں کیے جائیں گے۔