اسلام آباد: ڈیٹا لیکس کے معاملے میں جاری تحقیقات کے دوران حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آن لائن ویب سائٹس پر نہ صرف صارفین کی انتہائی حساس اور ذاتی معلومات فروخت کی جا رہی ہیں بلکہ ایسے سافٹ ویئر بھی دستیاب ہیں جنہیں استعمال کرکے کال کرنے والے کی اصل شناخت چھپائی یا تبدیل کی جا سکتی ہے۔
یہ فراڈ سافٹ ویئر جرائم پیشہ افراد کو موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ خود کو مختلف بینکوں یا سرکاری اداروں کے نمائندے ظاہر کر کے عام شہریوں کو نشانہ بنائیں۔ رپورٹ کے مطابق اس طریقہ واردات کے نتیجے میں ملک بھر میں ہزاروں افراد مالی نقصان اٹھا چکے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ صارفین کا ڈیٹا موبائل آپریٹرز کے ذریعے لیک نہیں ہوا بلکہ غیر قانونی ویب سائٹس اور ایپس کے ذریعے چوری کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق ان ذرائع کے ذریعے شہریوں کے شناختی کارڈ، خاندانی معلومات اور سفری ریکارڈ جیسا حساس ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ تاہم لائسنس یافتہ موبائل آپریٹرز کے آڈٹ کے دوران کسی قسم کی ڈیٹا چوری کے شواہد نہیں ملے۔
ادارے نے مزید بتایا کہ غیر قانونی ویب سائٹس اور ایپس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور اب تک 1,372 ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز کو بلاک کیا جا چکا ہے جو شہریوں کی معلومات کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث تھیں۔
پی ٹی اے نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم کال یا پیغام پر اپنی ذاتی معلومات فراہم نہ کریں تاکہ اس بڑھتے ہوئے فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔