اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ اس وقت ’’گرے ایریا‘‘ میں آتی ہے۔
کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے مؤقف کے مطابق ملک کے نوجوان اس شعبے میں نہ صرف مہارت رکھتے ہیں بلکہ مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر سرگرم بھی ہیں۔ تاہم باضابطہ قانون سازی نہ ہونے کے باعث یہ مارکیٹ ابھی تک کسی واضح فریم ورک کے تحت نہیں چل رہی۔
ڈپٹی گورنر کا کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لیے تاحال جامع قانون سازی نہیں کی گئی، اس لیے اسے مکمل طور پر قانونی یا غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی حیثیت فی الحال ایک درمیانی راستے کی ہے۔
اس موقع پر کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے سوال اٹھایا کہ جب ہنڈی اور حوالہ کو غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے تو کرپٹو کرنسی کی ڈیلنگ کو ریگولیٹری فریم ورک سے باہر رہتے ہوئے ’’گرے زون‘‘ میں کیوں رکھا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ دونوں صورتوں میں واضح تضاد موجود ہے، جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز نے تشویش ظاہر کی کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی اب بعض مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی استعمال ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں نقد رقم کے بجائے کرپٹو کرنسی کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔ یہ معلومات انہیں ملک کی اہم شخصیات سے ملی ہیں۔
دوسری جانب سینیٹر دلاور خان نے ٹیکس کے موجودہ نظام پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس، سیلز ٹیکس اور درجنوں دیگر ٹیکسوں نے نظام کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگر تمام شعبوں پر یکساں 5 فیصد ٹیکس عائد کر دیا جائے تو ٹیکس وصولی میں 40 فیصد اضافہ ممکن ہے۔
کمیٹی نے اس معاملے پر مزید غور کے لیے تجاویز طلب کی ہیں تاکہ ’’ورچوئل ایسیٹ بل 2025‘‘ کو حتمی شکل دے کر قانون سازی کی جا سکے۔