کٹھمنڈو: نیپال کی سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سوشیلا کرکی نے عبوری وزیراعظم کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں سوشل میڈیا پر پابندی کے بعد نوجوانوں کی قیادت میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک نے پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے فیس بک، ٹک ٹاک اور دیگر بڑے پلیٹ فارمز بند کرنے کے فیصلے نے عوام میں غصے کی لہر دوڑا دی۔ خاص طور پر نوجوان نسل، جسے “جین زی” کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاج نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر لی۔
مظاہروں کے دوران کئی شہروں میں بدترین ہنگامہ آرائی ہوئی، درجنوں سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔
بحران سنگین صورت اختیار کرنے پر فوج کو طلب کیا گیا جس نے سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد امن و امان بحال کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسی دوران احتجاجی رہنماؤں نے فوجی قیادت سے ملاقات کی، جہاں آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی۔
احتجاجی تحریک کے قائدین نے ملک میں فوری قبل از وقت انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوشیلا کرکی کا نام عبوری حکومت کی قیادت کے لیے تجویز کیا جس پر انہوں نے اصولی طور پر ہاں کر دی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سوشیلا کرکی واقعی عبوری وزیراعظم بنتی ہیں تو یہ نیپال کی تاریخ میں ایک بڑا موڑ ہوگا، کیونکہ پہلی بار عدلیہ سے تعلق رکھنے والی کوئی شخصیت ملک کی سیاسی کشتی کو ہنگاموں کے سمندر سے نکالنے کی کوشش کرے گی۔