کراچی: وفاقی اردو یونیورسٹی کی سینیٹ کا اجلاس، جو کل 17 ستمبر کو منعقد ہونا ہے، انعقاد سے قبل ہی تنازعے کا شکار ہوگیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم نے اس اجلاس کے انعقاد پر اعتراض اٹھاتے ہوئے ایوان صدر کے چانسلر سیکریٹریٹ سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ یونیورسٹی کے انتظامی اور گورننس کے معاملات پر جاری تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ مرتب ہونے تک اجلاس کو مؤخر کیا جائے۔ اس حوالے سے وزارتِ تعلیم نے ایوان صدر کو ایک خط بھی تحریر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایچ ای سی میں قائم کمیٹی پہلے ہی ان معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر نے اجلاس کے انعقاد کے لیے قائم مقام ایک رکنِ سینیٹ کو خصوصی ذمہ داری دی ہے تاکہ وہ اراکینِ سینیٹ سے رابطے کرکے انہیں اجلاس میں شرکت پر آمادہ کریں۔ یاد رہے کہ 3 ستمبر کو بھی یہ اجلاس اس وقت ملتوی ہوگیا تھا جب کورم پورا نہ ہونے کے باعث اجلاس کا انعقاد ممکن نہ رہا۔
یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ، بالخصوص وائس چانسلر کے ڈیڑھ سالہ دور میں، اساتذہ اور ملازمین شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ تنخواہوں کی ادائیگی میں دو ماہ تک کی تاخیر معمول بن چکی ہے، ہاؤس سیلنگ الاؤنس گزشتہ 12 ماہ سے بند ہے اور کم و بیش چار ماہ سے پنشنز بھی ادا نہیں کی گئیں۔
خزانہ شعبے کے ذرائع کے مطابق 2019 کے بعد سے ریٹائرمنٹ کے بقایاجات بھی ادا نہیں کیے گئے، جبکہ دوسری جانب وائس چانسلر نے اپنی تنخواہ ایچ ای سی کے مقررہ پیمانے سے زیادہ مقرر کی ہے، جس کی صدرِ پاکستان سے منظوری نہیں لی گئی۔ یہ معاملہ اب قانونی پہلوؤں سے بھی سوالات پیدا کر رہا ہے، کیونکہ وائس چانسلر تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے اپنی تنخواہ کی منظوری سینیٹ سے حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔