وزیراعظم محمد شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کا تفصیلی اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ اس اہم ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق یہ ملاقات نہایت خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں منعقد ہوئی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو امن کا علمبردار قرار دیا اور ان کی قیادت کو سراہا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے انسداد دہشت گردی میں تعاون، علاقائی سلامتی اور باہمی تعلقات پر کھل کر بات چیت کی۔ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کا پاکستان کے انسداد دہشت گردی میں کردار کو عوامی سطح پر تسلیم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور اس شعبے میں مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ صدر ٹرمپ دنیا بھر میں تنازعات کے خاتمے کی مخلصانہ کوششوں میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کی فیصلہ کن قیادت کو سراہا، جس کی بدولت خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی سے بچاؤ ممکن ہوا۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتےہوئے وزیراعظم نے غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے کے لیے صدرٹرمپ کی کوششوں کو سراہا،خاص طور پر اس ہفتے کےشروع میں مشرق وسطیٰ بالخصوص غزہ اور مغربی کنارے میں امن کی بحالی کے لیے جامع تبادلے کے لیے نیویارک میں مسلم دنیا کے اہم رہنماؤں کو مدعو کرنے کے ان کے اقدام کو سراہا۔
وزیراعظم نےاس سال کےشروع میں پاکستان اور امریکہ کےدرمیان طے پانے والے ٹیرف انتظامات پرصدر ٹرمپ کا شکریہ بھی ادا کیا،دونوں ممالک کےدرمیان دیرینہ شراکت داری کو یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس اعتمادکا اظہارکیا کہ صدرٹرمپ کی قیادت میں پاکستان اور امریکہ دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے شراکت داری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کی زراعت، آئی ٹی، کانوں اور معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو پاکستان کے سرکاری دورے کی پرتپاک دعوت دی۔ اوول آفس میں ہونے والی یہ ملاقات تقریباً 55 منٹ تک جاری رہی، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔