پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز بھی تیزی کا سلسلہ جاری رہا،جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران ایک لاکھ 63 ہزار کی سطح عبور کر گیا
دوپہر 12 بجکر 55 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 794.31 پوائنٹس یا 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 163,051.31 پوائنٹس پر موجود تھا۔
کلیدی شعبوں میں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھی گئی جن میں آٹو موبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری شامل ہیں۔ بڑی کمپنیوں جیسے اے آر ایل، حبکو، ماری، پی او ایل، پی ایس او، ایس این جی پی، ایس ایس جی سی، ایم سی بی، میزان بینک اور یو بی ایل کے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ ہوئے۔
یہ تیزی اس وقت دیکھنے میں آئی جب انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا مشن، جس کی قیادت پاکستان مشن چیف ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں، اسلام آباد میں موجود ہے تاکہ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے پر بات چیت کی جا سکے۔ وفد کی ملاقات آج وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے متوقع ہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران بھی پی ایس ایکس نے نئی بلندی حاصل کی تھی، جب کے ایس ای-100 انڈیکس 162,257 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیادوں پر 4,220 پوائنٹس یا 2.67 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ تیزی خاص طور پر ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن، پاور اور بینکنگ شعبوں میں نمایاں تھی، جسے معاشی و سیاسی محاذ پر مثبت پیش رفت کا سہارا ملا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی پیر کے روز بیشتر ایشیائی حصص بازاروں میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ ڈالر میں قدرے کمی آئی، کیونکہ سرمایہ کار امریکی حکومت کے ممکنہ شٹ ڈاؤن کے خدشات کے باعث محتاط نظر آئے۔ اگر بجٹ پر معاہدہ نہ ہوا تو بدھ سے حکومتی شٹ ڈاؤن شروع ہو جائے گا، اسی دن نئی امریکی ٹیرف بھی نافذ ہوں گے۔
امریکا میں سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو اکتوبر میں شرح سود کم کرنے کا 90 فیصد امکان رکھتا ہے، جبکہ دسمبر میں مزید کمی کا امکان 65 فیصد ہے۔