ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ متوقع ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق بدھ سے اکتوبر کی پہلی پندرہ روزہ مدت کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں فی لیٹر 2 سے 3 روپے تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ردوبدل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے اثرات کے مطابق ہوگا۔
سرکاری اندازوں کے مطابق موجودہ ٹیکس شرحوں کی بنیاد پر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت میں تقریباً فی لیٹر 2.50 روپے یا ایک فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 1.90 سے 2 روپے تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ مئی کے وسط سے اب تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر فی لیٹر تقریباً 13 روپے اضافہ ہو چکا ہے۔
فی الحال پیٹرول کی ایکس ڈپو قیمت فی لیٹر 264.61 روپے ہے۔ پیٹرول کا زیادہ استعمال نجی ٹرانسپورٹ، موٹرسائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ براہِ راست درمیانے اور نچلے طبقے کے اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔ دوسری جانب ایچ ایس ڈی کی ایکس ڈپو قیمت اس وقت فی لیٹر 272.77 روپے ہے۔ ڈیزل کا استعمال ہیوی ٹرانسپورٹ، ٹرینوں اور زرعی مشینری میں ہوتا ہے، اسی لیے اس کی قیمت میں اضافہ مہنگائی پر نمایاں اثر ڈالتا ہے کیونکہ یہ براہِ راست فریٹ اور غذائی اجناس کی قیمتوں سے جڑا ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق مئی سے اگست کے دوران ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 27 روپے اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا تھا، تاہم حالیہ ہفتوں میں قیمتوں میں فی لیٹر 13 روپے کمی کے باوجود کرایوں کو کم نہیں کیا گیا۔
مزید برآں، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے، جن کی قیمتیں بالترتیب فی لیٹر 4.50 روپے اور 1.75 روپے تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔ فی الحال حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس عائد نہیں کر رہی، تاہم بھاری پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ ڈیزل پر فی لیٹر 79.50 روپے اور پیٹرول و ہائی اوکٹین پر فی لیٹر 80.52 روپے لیوی لی جا رہی ہے، جن میں فی لیٹر 2.50 روپے کاربن سرچارج لیوی (CSL) کے طور پر شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر فی لیٹر 16 سے 17 روپے کسٹمز ڈیوٹی بھی لاگو ہے، خواہ یہ مصنوعات درآمد کی گئی ہوں یا مقامی طور پر تیار کی گئی ہوں۔