وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت 27 ویں ترمیم پر مشاورت کیلئے آج طلب کیا گیا وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس ملتوی ہونے کی تفصیلات فی الحال سامنے نہیں آ سکیں، میڈیا رپورٹس کے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دی جانی تھی تاہم کابینہ ارکان کو اجلاس ملتوی ہونے کی باضابطہ اطلاع فراہم کر دی گئی ہے۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم نمبر 2 میں منعقد ہونا تھا جہاں اہم حکومتی معاملات اور مجوزہ آئینی ترامیم پر غور کیا جانا تھا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس ملتوی ہونے کی وجوہات سے متعلق تفصیلات فی الحال سامنے نہیں آئیں، نئی تاریخ کا اعلان آئندہ چند روز میں کیے جانے کا امکان ہے۔
ادھر وفاقی مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آئینی عدالت کے قیام پر پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں اتفاق رائے ہوچکا ہے، دونوں جماعتیں آرٹیکل 243 پر بھی متفق ہیں۔
انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا ایک ہی ڈرافٹ آئے گا، وفاقی کابینہ میں کل 27ویں ترمیم کا مسودہ پیش ہوگا، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد مسودہ سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
27ویں ترمیم کا مسودہ اگلے پیر ، یا منگل کو قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔ 27ویں ترمیم کا مسودہ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو بھی بھیجا جائے گا، اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں مسودے پر دو دن تک بحث ہوگی۔
سینیٹ سے مسودہ پیر کو منظور ہوا تو قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے 3 دن چاہیئے ہوں گے۔ 27ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 243 میں کچھ تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ آرٹیکل 243 فورسز کو آئینی کردار دینے سے متعلق نہیں ہے