امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایلون مسک کو تاریخ کا سب سے بڑا کارپوریٹ پے پیکیج مل گیا ہے، جس کے بعد ان کے دنیا کے پہلے کھرب پتی بننے کی راہ مزید ہموار ہو گئی ہے۔ یہ معاوضہ کمپنی کی کارکردگی، طویل مدتی ترقی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مسک کے وژن سے منسلک ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیسلا کے 75 فیصد شیئر ہولڈرز نے ایک ٹریلین ڈالر (تقریباً 2810 کھرب روپے) کے ریکارڈ پے پیکیج کی منظوری دی، جو کارپوریٹ تاریخ کا سب سے بڑا معاوضہ تصور کیا جا رہا ہے۔
کمپنی کے بورڈ نے ووٹنگ سے قبل اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ پیکیج مسترد کیا گیا تو ایلون مسک کمپنی چھوڑنے پر بھی غور کرسکتے ہیں، اور چونکہ ٹیسلا کا مستقبل مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار گاڑیوں کے منصوبوں سے جڑا ہے، اس لیے مسک کی قیادت کمپنی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ایک طرف جہاں یہ پیکیج کارپوریٹ تاریخ کا بڑا سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، وہیں امریکا میں دولت کی عدم مساوات پر نئی بحث بھی شروع ہوگئی ہے۔ ناقدین نے اس پیکیج کو معاشی خلیج میں اضافے کی علامت قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایلون مسک کا یہ معاوضہ ٹیسلا کی مجموعی ترقی، خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی، روبوٹکس نیٹ ورک، اور مستقبل میں انسان نما روبوٹس کی فروخت جیسے بڑے منصوبوں سے منسلک ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب کچھ بڑے سرمایہ کاروں اور عالمی مشاورتی اداروں نے اسے ’’انتہائی مہنگا‘‘ اور ’’غیر ضروری‘‘ قرار دیا تھا۔ تاہم ٹیسلا بورڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاوضہ مسک کو کمپنی کے ساتھ برقرار رکھنے اور طویل مدتی اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔
سالانہ میٹنگ کے دوران ایلون مسک نے یہ اعلان بھی کیا کہ ٹیسلا اپریل سے ’’سائبر کیب‘‘ یعنی دو نشستوں والی روبوٹیکسی کی پیداوار شروع کر دے گا، جو ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں نئی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔