پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بحال شدہ کلاس ویلیو ایڈڈ سروسز (سی وی اے ایس۔ ڈیٹا) لائسنسنگ نظام کے تحت ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) سروس فراہم کنندگان کے لیے لائسنسنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔
پی ٹی اے نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں محفوظ اور قانونی وی پی این خدمات کی فراہمی کو منظم بنانا اور قومی قوانین و ضوابط کے ساتھ ساتھ ڈیٹا سیکیورٹی کے معیار کی پابندی کو یقینی بنانا ہے۔
اتھارٹی نے متعدد کمپنیوں کو کلاس لائسنس جاری کیے ہیں، جن میں الفا 3 کیوبک (پرائیویٹ) لمیٹڈ (اسٹیر لوسڈ)، زیٹا بائٹ (پرائیویٹ) لمیٹڈ (کریسٹ وی پی این)، نیکسیلیم ٹیک (ایس ایم سی-پرائیویٹ) لمیٹڈ (کیسٹرل وی پی این)، یو کے آئی کونک سولیوشنز (ایس ایم سی-پرائیویٹ) لمیٹڈ (کوئیکسور وی پی این)، اور وژن ٹیک 360 (پرائیویٹ) لمیٹڈ (کرپٹونائم وی پی این) شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق یہ لائسنس یافتہ کمپنیاں افراد اور اداروں کو جائز اور قانونی مقاصد کے لیے وی پی این خدمات فراہم کرنے کی اجازت رکھتی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اب صارفین آسانی سے ان لائسنس یافتہ فراہم کنندگان سے براہِ راست وی پی این خدمات حاصل کر سکتے ہیں، اور انہیں اپنے آئی پی ایڈریسز یا موبائل نمبرز کے لیے پی ٹی اے سے علیحدہ رجسٹریشن کروانے کی ضرورت نہیں۔ یہ اقدام ریگولیٹری سہولت، صارفین کی آسانی، اور پاکستان کے ڈیجیٹل نظام میں سائبر سیکیورٹی کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
گزشتہ سال، پی ٹی اے نے فری لانسرز کو اپنے موبائل نمبرز کے ذریعے وی پی این رجسٹر کرنے کی اجازت دی تھی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب حکومت نے وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وزارتِ قانون کے مطابق حکومت کے پاس الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے تحت ایسی پابندی عائد کرنے کا قانونی اختیار نہیں تھا۔