جرمنی کے شہر ہیمبرگ کے سیوریج کے نمونے میں وائلڈ پولیو وائرس کی موجودگی کی باضابطہ طور پر تصدیق ہوئی ہے۔
جرمن حکام کا کہنا ہے کہ سیوریج میں پولیو وائرس کی تصدیق عالمی سطح پر اس مہلک وائرس کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کے لیے ایک تشویشناک پیش رفت ہے اور اس جدوجہد کو ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
جرمنی کی وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سیوریج کے نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ وائرس کے خلاف اٹھائے گئے حفاظتی اقدامات اور نگرانی کا نظام موثر انداز میں کام کررہا ہے، جس کے باعث اس کی بروقت نشاندہی ممکن ہوئی۔
وزارت نے مزید بتایا کہ جرمنی میں اب تک پولیو کا کوئی انسانی کیس سامنے نہیں آیا اور ملک پولیو سے پاک تصور کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ جرمنی میں سیوریج کے نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی یہ تصدیق ملک میں پولیو وائرس کے آخری کیس کی رپورٹنگ کے 30 برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔
جرمنی میں 2010ء میں پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا اور اس وقت سے اب تک کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم اس کے باوجود بھی جرمن حکومت نے 2021ء میں ملک بھر میں پولیو سے بچاؤ کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی نگرانی اور ٹیسٹنگ کا نظام قائم کیا تھا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2010ء کے بعد یورپ کے کسی بھی ملک میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے، جسے انتہائی اہم اور تشویشناک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پولیو وائرس کی اقسام
دنیا بھر میں پولیو وائرس کی دو بنیادی اقسام پائی جاتی ہیں۔ پہلی قسم وائلڈ پولیو وائرس ہے جو اب نایاب ہوچکا ہے اور اس وقت صرف افغانستان اور پاکستان میں ہی پایا جاتا ہے۔
حال ہی میں جرمنی کے سیوریج کے نمونے میں دریافت ہونے والا پولیو وائرس افغانستان میں گردش کرنے والے پولیو وائرس سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہی وائرس اس سے قبل 2022ء میں ملاوی اور موزمبیق میں بھی دریافت کیا گیا تھا۔
یہ وائرس حال ہی میں ان ممالک میں بھی پایا گیا ہے جو دیگر صورتوں میں پولیو سے پاک تصور کیے جاتے ہیں۔ 2022ء سے اب تک کئی یورپی ممالک، بشمول جرمنی، اسپین اور برطانیہ میں معمول کے نمونے لینے کے دوران بھی اس کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی ہے۔
پولیو وائرس کی دوسری قسم ویکسین ڈیرائیو پولیو ہے جو کئی ممالک میں گردش کرتا ہے اور یہ ان نایاب حالات میں پیدا ہوتا ہے جہاں کمزور زندہ وائرس کو حفاظتی ٹیکوں میں استعمال کیا جاتا ہے، جو بعض اوقات تبدیلی کے عمل سے گزر کر بیماری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
ویکسین ڈیرائیو پولیو وائرس بھی حال ہی میں ان متعدد ممالک میں پایا گیا ہے جنہیں پہلے پولیو سے پاک قرار دیا جا چکا تھا، اور یہاں تک کہ 2022ء میں جرمنی، اسپین اور برطانیہ میں بھی اس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔