حالیہ طبی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ صرف ایک سگریٹ پینا بھی دل کی صحت پر سنگین اور طویل مدتی منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق کم مقدار میں سگریٹ نوشی بھی جلد موت کے خطرے کو 60 فیصد تک بڑھا سکتی ہے، جسے معمولی تصور نہیں کیا جاسکتا۔
طبی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی اس تحقیق میں تقریباً 3 لاکھ افراد کے 20 سال پر مشتمل اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ بہت کم سگریٹ نوشی کرنے والے افراد بھی تقریباً اتنے ہی شدید خطرات کا سامنا کرتے ہیں جتنے مستقل طور پر سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو ہوتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں سگریٹ پینے والوں میں امراضِ قلب کا خطرہ تقریباً 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ای سگریٹ کے استعمال سے ذیابیطس کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
مطالعے کے مطابق دن میں 2 سے 5 سگریٹ پینا بھی دل کی بیماری کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے، جبکہ صرف سگریٹ کی مقدار کم کرنا صحت کے خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سگریٹ کا مکمل ترک کرنا ہی دل کی حفاظت کا واحد مؤثر طریقہ ہے۔
ماہرین کے مطابق سگریٹ چھوڑنے سے دل کی صحت پر فوری اور دیرپا مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق تین سال کے اندر سگریٹ ترک کرنے والوں میں موت کے اضافی خطرات میں 90 سے 95 فیصد تک کمی آ جاتی ہے، جبکہ تقریباً 20 سال تک سگریٹ نوشی چھوڑنے والوں کا دل ان افراد کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد زیادہ محفوظ رہتا ہے جو مستقل سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔
تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بھی مقدار میں سگریٹ نقصان دہ ہے، چاہے وہ بہت کم ہو یا کبھی کبھار استعمال کی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دل اور مجموعی صحت کی حفاظت کے لیے تمباکو نوشی کو مکمل طور پر چھوڑ دینا ہی بہتر انتخاب ہے۔