اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف 9 مئی اور دیگر پانچ مقدمات میں گرفتاری روکنے کے اپنے پہلے سے جاری حکم میں مزید توسیع دیتے ہوئے اسے 23 دسمبر تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کی ضمانت قبل از گرفتاری میں بھی توسیع کر دی ہے، جبکہ آئندہ سماعت پر انہیں ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ان مقدمات کی سماعت کی، جن میں 9 مئی کے واقعات سمیت مختلف نوعیت کے الزامات شامل ہیں۔ تاہم سماعت کے دوران عمران خان کی عدم موجودگی کے باعث عدالت ضمانت کی درخواستوں پر دلائل نہیں سن سکی، جس کے بعد کارروائی کو 23 دسمبر تک ملتوی کر دیا گیا۔
عدالت کے جاری کردہ حکم کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری فی الحال برقرار رہے گی، اور آئندہ سماعت پر عمران خان کی حاضری ویڈیو لنک کے ذریعے یقینی بنائی جائے گی۔ اس ہدایت کا مقصد مقدمات کی پیش رفت کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھانا ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف 9 مئی کے واقعات، اقدامِ قتل اور مبینہ جعلی رسیدوں کے معاملات سمیت متعدد مقدمات درج ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف بھی مبینہ طور پر جعلی رسیدیں جمع کروانے کے الزام میں مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔
عدالت کے اس فیصلے کے بعد بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کے اہل خانہ کو 23 دسمبر تک گرفتار نہیں کیا جا سکے گا، جس سے انہیں عارضی ریلیف حاصل ہو گیا ہے۔