منامہ: وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز بحرین کی قیادت سے ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ اپنے تعلقات کو پہلے سے زیادہ مضبوط، پائیدار اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام، دیرینہ دوستی اور مشترکہ مذہبی اقدار پر قائم ہیں، جنہیں مزید گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔
دو روزہ سرکاری دورے کے دوران وزیراعظم کی بحرین کے بادشاہ شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے منامہ میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے تاریخی روابط اور قریبی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں معاشی تعاون، سرمایہ کاری، تجارتی فروغ اور خطے کی بدلتی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ، جو تکمیل کے قریب ہے، دو طرفہ تجارت کو نمایاں طور پر بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے بحرینی سرمایہ کاروں کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی، خصوصاً فوڈ سیکیورٹی، آئی ٹی، تعمیرات، کان کنی، سیاحت اور صحت کے شعبوں میں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین میں مقیم ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے لیے دوستانہ ماحول فراہم کرنے پر شاہ حمد کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے فیصلے پر بھی بحرینی قیادت سے اظہارِ تشکر کیا۔
دونوں ممالک نے طویل عرصے سے قائم دفاعی تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے تربیت، لاجسٹکس، افرادی قوت اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ ملاقات میں غزہ کی تازہ صورتحال بھی زیرِ بحث آئی، اور دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کے عوام کے لیے دیرپا امن اور استحکام انتہائی ضروری ہے۔
وزیراعظم نے بحرین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2026–27 کی غیر مستقل نشست جیتنے پر مبارکباد پیش کی اور عالمی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ موجودہ 550 ملین ڈالر سے زائد دو طرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔
ولی عہدسےملاقات
وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے بھی علیحدہ ملاقات کی، جو خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ بات چیت عملی نتائج دے گی اور پاک–بحرین تعلقات کو ایک نئی سمت ملے گی۔
وزیراعظم اور وفد کے ارکان کا منامہ ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
پی ٹی وی کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ خوشگوار تعلقات کا عکاس ہے، جس کا مقصد نتیجہ خیز اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان اور بحرین نے پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے پہلے اجلاس میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔