سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر جیل سپرنٹنڈنٹ اور تین دیگر سرکاری افسران کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام نے عدالت کے اس حکم کی تعمیل نہیں کی جس کے تحت انہیں اپنے بھائی سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بتایا ہے کہ یہ درخواست 24 مارچ کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف دائر کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما اظہر مشوانی کی جانب سے شیئر کی گئی درخواست کی تصویر کے مطابق اڈیالہ جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم، تھانہ صدر بیرونی کے ایس ایچ او راجہ اعزاز عظیم، وزارت داخلہ اور
پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹریز کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ 24 مارچ 2025 کے عدالتی حکم کی عدم تعمیل پر فریقین کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی جائے اور قانون کے مطابق انہیں سزا دی جائے تاکہ انصاف
کو یقینی بنایا جا سکے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تشویشناک رپورٹس بین الاقوامی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے کل جیل انتظامیہ سے صرف 2 سے 3 منٹ کی ملاقات کی درخواست کی تھی، مگر اس کی اجازت نہیں دی گئی، انہوں نے مزید کہا کہ اس امتیازی رویے سے نفرتوں کو ہوا مل رہی ہے۔
علیمہ خان نے گزشتہ شب ایک ٹوئٹ میں کہا کہ عمران خان کو غیر قانونی طور پر تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ان کی صحت اور سلامتی کے بارے میں پوچھتے ہیں لیکن ہمارے پاس کوئی مصدقہ معلومات موجود نہیں۔ جیل حکام کے بیانات پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات پر عمل ہونا چاہیے اور عمران خان کے اہل خانہ، وکلا اور پارٹی قیادت کو ان سے ملاقات کی اجازت ملنی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کم از کم 90 فیصد پاکستانی عوام کے لیڈر ہیں اور حکام کو کسی بھی نقصان کے نتائج سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ آخری بار اہل خانہ نے عمران خان سے 16 اکتوبر کو ملاقات کی تھی، جبکہ اس کے بعد صرف ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو 28 اکتوبر اور 4 نومبر کو مختصر ملاقات کی اجازت دی گئی، وہ بھی احتجاج اور دھرنوں کے بعد۔ ان کے مطابق 4 نومبر کے بعد سے مکمل طور پر رسائی ختم کر دی گئی ہے اور کسی کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔