اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے معروف صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق اہم کیس آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ اس حوالے سے عدالت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کیس کی پہلی باضابطہ سماعت 3 دسمبر کو ہوگی، جس کے لیے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
یہ معاملہ اصل میں سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کی بنیاد پر اٹھایا تھا، تاہم 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ایسے تمام مقدمات کا اختیار سپریم کورٹ سے لے کر نئی قائم کی گئی وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اسی آئینی تبدیلی کے تحت اب ارشد شریف قتل کیس بھی باضابطہ طور پر وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں منتقل ہو چکا ہے۔
ارشد شریف کو 23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں مگاڈی ہائی وے پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ کینیا کی پولیس نے ابتدائی بیان میں اس واقعے کو ’’غلط شناخت‘‘ قرار دیا تھا، تاہم پاکستان میں ہونے والی تحقیقات میں متعدد مقامات پر کینین حکام کے مؤقف میں تضادات سامنے آئے، جس نے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
ارشد شریف ایک اہم تفتیشی صحافی تھے اور ان کے قتل نے ملکی و عالمی سطح پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے، جب کہ مقتول کے اہلِ خانہ اور صحافتی تنظیمیں مسلسل شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ کیس کی آئینی عدالت میں منتقلی کے بعد اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس معاملے میں پیش رفت دوبارہ تیز ہو سکتی ہے۔