اسلام آباد: حکومت نے توانائی کے شعبے میں شفافیت اور جدید سہولیات کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پاور سیکٹر کی شکایات کے فوری حل کے لیے عوامی ہیلپ لائن 118 کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے انجام دی، جنہوں نے اسے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے سلسلے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
اس ہیلپ لائن کے ذریعے صارفین بغیر کسی تعطل کے اپنی شکایات مفت درج کرا سکیں گے، جبکہ ٹریک اینڈ ٹریس کا نظام انہیں شکایت کی پیش رفت جاننے میں مدد دے گا۔ صارفین نمائندہ کے ذریعے جانے کے بجائے براہِ راست سسٹم میں اپنی شکایت درج کرا سکیں گے، اور یہ سہولت سات مختلف زبانوں میں فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
مزید یہ کہ شکایت کا ازالہ ہونے پر متعلقہ صارف کو خودکار روبوٹک فیڈ بیک کال موصول ہوگی، اور اگر شکایت حل نہ ہوئی تو سسٹم اسے دوبارہ فعال کر دے گا، جس سے مسئلے کو نظر انداز کرنے کا امکان ختم ہو جائے گا۔
وزیر توانائی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے پاور سیکٹر میں خود احتسابی کو فروغ ملے گا اور شکایات کا مؤثر حل ممکن ہوگا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں بجلی سے متعلق شکایات کے حل کے لیے شہریوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اور یہ کہ موجودہ نظام کی بدولت ہر سطح کی نااہلی سامنے آئے گی جس کی ذمہ داری متعلقہ افراد کو قبول کرنا ہوگی۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ وزارت توانائی میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور شکایات کا یہ نیا نظام لائن اسٹاف سے لے کر اعلیٰ حکام تک سب کی کارکردگی کو عیاں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود ماضی میں اس وزارت کے وزیر رہ چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیوروکریسی کس طرح آزادانہ فیصلے کرتی رہی ہے، اس لیے نئے نظام کا مقصد صارفین کو اس فرسودہ نظام سے نجات دلانا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ سیاسی دفاتر پر بجلی سے متعلق شکایات کی تعداد اکثر پولیس شکایات سے بھی زیادہ ہوتی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہی اصل کسٹمر کیئر ہے۔ انہوں نے تمام ڈسکوز کے سی ای اوز سے اپیل کی کہ وہ اس نظام کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں، کیونکہ اس کی کامیابی سے ہی صارفین کا اعتماد بحال ہوگا۔