محکمہ ماحولیات کی فیلڈ ٹیموں نے لاہور کے کینال روڈ پر چیکنگ کے دوران پنجاب یونیورسٹی کی دو ایسی بسوں کو روک کر بند کر دیا جو مسلسل دھواں خارج کر رہی تھیں۔ کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ بسوں کے پاس وہیکل انسپیکشن سرٹیفکیٹ بھی موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے نہ صرف ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی تھی بلکہ طلبا کی صحت بھی متاثر ہو سکتی تھی۔
محکمہ ماحولیات کے مطابق دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں فضائی آلودگی کا ایک بڑا سبب بنتی ہیں اور تعلیمی اداروں کی بسوں کو ہر صورت ماحول دوست معیارات پر پورا اترنا چاہیے تاکہ طلبا اور شہریوں دونوں کو صحت کے مسائل سے بچایا جا سکے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز نے بتایا کہ یہ کارروائی لاہور ہائی کورٹ کی واضح ہدایات کی بنیاد پر کی گئی ہے، اور مستقبل میں بھی ایسی گاڑیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضبط شدہ بسوں کے خلاف ماحولیات ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ شہر میں فضائی آلودگی کے انسداد کے لیے چیکنگ کے عمل کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔