پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے خلاف طویل عرصے سے زیر التوا کارٹل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل نے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ایسوسی ایشن کی اپیل نمٹا دی ہے، تاہم جرمانے کی رقم 5 کروڑ روپے سے کم کر کے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے 2022 میں دیے گئے ایک مشابہ فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے جرمانے میں کمی کی گئی ہے۔ عدالت نے پولٹری ایسوسی ایشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ فیصلہ موصول ہونے کے 15 دن کے اندر مقررہ جرمانے کی رقم جمع کرائے۔
واضح رہے کہ سال 2010 میں کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے پولٹری ایسوسی ایشن اور اس کے ارکان پر مرغی اور پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں غیر قانونی گٹھ جوڑ اور کارٹل بنانے کے الزامات کے تحت 5 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا، جس کے بعد پولٹری سیکٹر میں کارٹلائزیشن کے معاملے پر طویل قانونی کارروائی کا آغاز ہوا۔
یاد رہے کہ 2009 میں کمپٹیشن کمیشن نے مرغی، انڈوں، فیڈ اور خصوصاً ایک دن کے بروائلر چوزوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی شکایات پر تحقیقات شروع کی تھیں۔ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ ایک دن کے بروائلر چوزوں کی قیمت 6 روپے فی چوزہ سے بڑھ کر اکتوبر 2009 تک 71 روپے 90 پیسے تک پہنچ گئی تھی، جبکہ اس وقت چوزہ پیدا کرنے کی لاگت تقریباً 18 روپے بتائی گئی تھی۔
چکن کی قیمت میں کمی آئے گی یا نہیں؟
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ماضی کے ایک کارٹل کیس سے متعلق ہے، جس کا تعلق 2009 اور 2010 کے دوران قیمتوں اور مارکیٹ رویّوں سے ہے۔ ٹریبونل نے کسی موجودہ قیمت، ریٹ لسٹ یا مارکیٹ میکانزم کے حوالے سے براہِ راست کوئی حکم جاری نہیں کیا، اس لیے اس فیصلے کا فوری اثر چکن کی موجودہ قیمتوں پر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ جرمانے کی رقم کم کر کے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، جو پولٹری انڈسٹری کے مجموعی حجم کے مقابلے میں بہت محدود ہے۔ ایسی رقم نہ تو مارکیٹ میں خوف پیدا کرتی ہے اور نہ ہی مستقبل میں قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے کوئی مؤثر دباؤ ڈالتی ہے۔