دنیا بھر میں بلند ترین آبادی کی شرح رکھنے والے ممالک میں شامل پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف کی واضح ہدایات کے باوجود آئی ایم ایف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مانع حمل مصنوعات، خصوصاً کنڈوم پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس فوری طور پر ختم کرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والی ایک ورچوئل میٹنگ میں پاکستانی حکام نے وزیراعظم کی جانب سے کنڈوم پر جی ایس ٹی فوری طور پر ختم کرنے کی خواہش کو مؤدبانہ انداز میں پیش کیا، تاہم آئی ایم ایف نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا کہ ایسے معاملات کسی بھی صورت موجودہ مذاکرات میں شامل نہیں کیے جا سکتے اور انہیں صرف آنے والے بجٹ میں زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔
اعلیٰ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے اس تجویز کی مخالفت کے بعد پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود کنڈوم کی قیمتوں میں کمی کا کوئی فوری امکان باقی نہیں رہا۔ حکام کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے اس درخواست کو مسترد کرکے وزیراعظم کے اگست 2025 میں جاری کردہ اس حکم نامے کی عملی راہ روک دی ہے، جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ آبادی پر قابو پانے کی مصنوعات ملک بھر میں زیادہ سستی اور باآسانی دستیاب ہونی چاہئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اگست 2025 میں ایف بی آر کو واضح طور پر کہا تھا کہ یہ معاملہ آئی ایم ایف کے ساتھ اُٹھایا جائے، لیکن کئی ماہ کی کوششوں اور بارہا رابطوں کے باوجود اس مسئلے میں کوئی پیشرفت سامنے نہیں آ سکی۔