متحدہ عرب امارات نے اسکولوں میں داخلے کے لیے عمر کی حد سے متعلق پالیسی میں ایک اہم اور وسیع تر تبدیلی کی منظوری دے دی ہے، جو تعلیمی سال 27-2026ء سے باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گی۔
نئی پالیسی کے تحت بچوں کے داخلے کے لیے عمر کی آخری تاریخ، جو ماضی میں 31 اگست مقرر تھی، اب توسیع دیتے ہوئے 31 دسمبر کر دی گئی ہے، جس کا مقصد تعلیمی سلسلے میں زیادہ سہولت پیدا کرنا ہے۔
یہ فیصلہ وزارتِ تعلیم کی جامع سفارش پر ایجوکیشن، ہیومن ڈیولپمنٹ اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ کونسل نے منظور کیا، اور یہ تبدیلی ان تمام اسکولوں اور کنڈرگارٹن پر لاگو ہوگی جن کا نیا تعلیمی سال اگست یا ستمبر میں شروع ہوتا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق پری کنڈرگارٹن میں داخلہ لینے والے بچے کی عمر 31 دسمبر تک کم از کم 3 سال ہونی چاہیے، جب کہ کنڈرگارٹن ون کے لیے 4 سال، کنڈرگارٹن ٹو کے لیے 5 سال اور گریڈ ون کے لیے بچے کی عمر 6 سال مکمل ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ عمر کی نئی حد کا تعین برطانوی، فرانسیسی اور دیگر بین الاقوامی تعلیمی نظاموں کے مطابق کیا گیا ہے تاکہ مختلف نصابوں کے درمیان طلبہ کی منتقلی کو زیادہ منظم اور آسان بنایا جا سکے۔
یہ پالیسی صرف نئے داخلوں پر ہی لاگو ہوگی، جبکہ وہ تمام طلبہ جو پہلے سے مختلف اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں، ان پر وہی عمر کی شرائط لاگو رہیں گی جو ان کے داخلے کے وقت مقرر کی گئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق اپریل میں تعلیمی سال شروع کرنے والے پاکستانی اسکولوں کے لیے داخلے کی آخری تاریخ بدستور 31 مارچ ہی برقرار رہے گی اور ان کے نظام میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
اماراتی حکام کے مطابق اس اہم فیصلے سے قبل 39 ہزار سے زائد بچوں کے تعلیمی ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اور تحقیق میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ نسبتاً کم عمر میں اسکول کا آغاز کرنے سے بچوں کی کارکردگی متاثر نہیں ہوتی، بلکہ کئی کیسز میں بہتر نتائج بھی دیکھنے میں آئے۔
حکام نے مزید کہا کہ نئی پالیسی کا بنیادی مقصد بچوں کی تعلیمی تیاری کو بہتر بنانا، انصاف کو فروغ دینا اور متحدہ عرب امارات کے تعلیمی نظام میں زیادہ یکسانیت پیدا کرنا ہے۔