کراچی ایئرپورٹ پر نجی ایئرلائن کے عملے کی جانب سے مسافر کا پاسپورٹ پھاڑنے کے معاملے کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، اور پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ میں اس واقعے کی مکمل ذمہ داری ایئرلائن کے عملے پر عائد کی گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ عملے کی لاپرواہی کے باعث نہ صرف مسافر کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ وہ اپنی متعین پرواز پر سفر بھی نہیں کر سکا۔
ذرائع کے مطابق مسافر قدرت اللہ جدہ روانگی کے لیے نجی ایئرلائن کے کاؤنٹر پر اپنی دستاویزات کی جانچ کروانے پہنچا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاسپورٹ چیکنگ کے دوران کاؤنٹر پر موجود خاتون اہلکار کرن نے اسٹیکر ہٹاتے ہوئے انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاسپورٹ پھٹ گیا اور مسافر فوری طور پر سفر کے قابل نہ رہا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ مسافر دوپہر 1 بج کر 25 منٹ پر کاؤنٹر پر پہنچا تھا، تاہم پاسپورٹ کو نقصان پہنچنے کے بعد اسے پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا، جس پر مسافر بین الاقوامی روانگی ٹرمینل سے باہر آیا اور احتجاج کرتے ہوئے بلند آواز میں چیخ و پکار شروع کر دی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ پاسپورٹ پھٹنے کے فوراً بعد ایئرلائن کے کسی بھی اہلکار نے نہ تو مسافر کی شکایت پر توجہ دی اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی رابطہ یا صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ رپورٹ میں نجی ایئرلائن کے عملے کی سنگین غفلت، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی خلاف ورزی اور غیر ذمہ دارانہ برتاؤ کی نشاندہی کی گئی ہے۔