افغانستان میں پروان چڑھنے والی دہشت گردی عالمی سلامتی کے لیے تیزی سے ایک سنگین اور مستقل خطرے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ مختلف ممالک میں افغان شہری دہشت گردانہ سرگرمیوں، منشیات اسمگلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث پائے جا رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر شدید تشویش جنم لے رہی ہے۔ اسی سلسلے میں کینیڈا میں دہشت گردی میں ملوث ایک اور افغان شہری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
افغان جریدہ ہشتِ صبح کے مطابق، کینیڈین پولیس نے 26 سالہ افغان باشندے ولید خان کو ٹورنٹو میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور شدت پسند تنظیم داعش کے ساتھ روابط کے الزامات پر حراست میں لیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نہ صرف داعش کو مالی معاونت اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس فراہم کرتا تھا بلکہ قتل کی منصوبہ بندی سمیت دیگر غیر قانونی سازشوں میں بھی شامل تھا۔
تحقیقات کے مطابق، ولید خان نے نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر دہشت گردانہ جرائم انجام دینے کی متعدد سازشیں تیار کیں۔ پولیس نے اس کی گرفتاری کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا، جو اس کی سرگرمیوں کی سنگینی کو مزید ظاہر کرتا ہے۔
اس گرفتاری سے ایک روز قبل آسٹریا میں ایک افغان پناہ گزین کو منشیات سے متعلق جرائم کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں افغانستان کے حوالے کر دیا گیا۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے زیر سایہ سرگرم بے لگام دہشت گرد گروہ دنیا بھر کے لیے ایک بڑا اور پیچیدہ چیلنج بن چکے ہیں، جبکہ افغانستان میں منشیات کی مسلسل پیداوار بھی بین الاقوامی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔