پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے واضح انداز میں کہا ہے کہ پارٹی کے اندر جو بھی رہنما مذاکرات کی بات کرتا ہے، وہ نہ تو بانی پی ٹی آئی کے مؤقف کے ساتھ کھڑا ہے اور نہ ہی عمران خان کا حقیقی ساتھی سمجھا جا سکتا ہے۔
منگل کے روز انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے اپنا دوٹوک اور واضح پیغام خیبر پختونخوا کی قیادت تک پہنچا دیا ہے، جس میں کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رکھا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی دو روزہ کانفرنس کے جاری کردہ اعلامیے سے مکمل طور پر لاعلم ہیں اور اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
علیمہ خان نے توشہ خانہ کیس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف قائم کیا گیا یہ مقدمہ سراسر بوگس ہے اور اس کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پرسوں بھی قوم کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا پیغام دیا ہے، یہاں تک کہ وہ اس جدوجہد میں شہادت قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
گفتگو کے اختتام پر علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان کو مجموعی طور پر 11 کتابیں بھجوائی گئی تھیں، تاہم جج کے مطابق ان میں سے 9 کتابیں انہیں موصول ہو چکی ہیں۔