xبیجنگ: چین نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے 20 امریکی دفاعی کمپنیوں اور 10 افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جسے بیجنگ نے اپنی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد کے چین میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، جبکہ ان کے چین میں داخلے پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
چینی حکام نے اس ضمن میں مقامی تنظیموں اور کاروباری شخصیات کو بھی ہدایت جاری کی ہے کہ وہ پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد اور اداروں کے ساتھ کسی قسم کا کاروباری یا پیشہ ورانہ تعاون نہ کریں۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق چین اور امریکا کے تعلقات میں تائیوان ایک پہلی اور بنیادی سرخ لکیر ہے، جسے کسی صورت عبور نہیں کیا جا سکتا۔
وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ تائیوان کے معاملے پر کسی بھی اشتعال انگیز اقدام کا چین سخت اور مؤثر جواب دے گا، جبکہ امریکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے کی خطرناک کوششیں فوری طور پر بند کرے۔
یہ چینی اقدام گزشتہ ہفتے امریکا کی جانب سے تائیوان کو 11 ارب 10 کروڑ ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جس پر بیجنگ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔