کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہریوں کو خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ شہر میں تاخیر کا شکار سڑکوں اور انڈر پاسز کی تعمیر کا کام تیزی سے مکمل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ماضی میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جو غلطیاں ہوئیں، ان پر وہ شہریوں سے معذرت خواہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت قوم اس وقت تک آگے بڑھنا ممکن نہیں جب تک ہم اپنی کوتاہیوں کو تسلیم نہ کریں اور ان کی اصلاح کی سنجیدہ کوشش نہ کریں۔
میئر کراچی نے شہر میں نئے پارکس، اربن فارسٹ اور نئے قبرستان بنانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال کراچی کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 46 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، تاکہ شہریوں کو بہتر ماحول اور سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ پر ترقیاتی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ حسن علی ہوتی مارکیٹ پر بھی کام جاری ہے جہاں فوڈ اسٹریٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ مرتضیٰ وہاب کے مطابق آئندہ دو ماہ میں کڈنی ہل کو سیر و تفریح کے لیے ایک بہترین مقام میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ منور چورنگی انڈر پاس پر بھی کام جاری ہے جس کے 3 جون تک مکمل ہونے کی امید ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تنقید دراصل کسی ایک فرد یا ادارے کو نہیں بلکہ پورے کراچی کو نقصان پہنچاتی ہے، اور ایسے عناصر شہر کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ جب شہر کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے تو تکلیف ہوتی ہے، کیونکہ بعض عناصر اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کراچی دشمنی پر اتر آئے ہیں، حالانکہ کراچی پاکستان کا گیم چینجر تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری ہمیشہ پاکستان کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی یہ کردار ادا کرتے رہیں گے۔ میئر نے ٹریفک مسائل کے حل کے لیے ایک نئی کوآرڈینیشن کمپنی بنانے کا بھی اعلان کیا، جس کی سربراہی وہ خود کریں گے۔
اس موقع پر مرتضیٰ وہاب نے یقین دہانی کرائی کہ مارچ سے جولائی کے درمیان ریڈ لائن کوریڈور سے متعلق درپیش مسائل کو مرحلہ وار حل کر لیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولت میسر آ سکے۔