اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے روسی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ روسی صدر کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانا نہایت تشویشناک عمل ہے، اور ایسے واقعات خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب امن کے لیے سفارتی سطح پر سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے گھناؤنے حملے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں، اور پاکستان سلامتی اور امن کو خطرے میں ڈالنے والے تشدد کے تمام طریقوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
واضح رہے کہ روس نے نووگورود ریجن میں صدر پیوٹن کی سرکاری رہائش گاہ پر یوکرین کی جانب سے حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس اقدام کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے، جس کے بعد روسی حکام نے حملے کا جواب دینے اور جاری امن مذاکرات پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق صدر پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کے لیے 91 لانگ رینج ڈرون داغے گئے، تاہم روسی دفاعی نظام نے تمام ڈرون مار گرائے، جبکہ انہوں نے واضح کیا کہ اس حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ روسی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا، جس میں امریکا کے ساتھ امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا، تاہم امن مذاکرات کے مستقبل پر نظرثانی سے بھی آگاہ کر دیا گیا۔