ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرے مختلف شہروں تک پھیل گئے ہیں، جہاں پُرتشدد واقعات کے دوران اب تک 6 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جس سے ملک میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے لورستان، فسا اور ازنا شہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جبکہ کئی شہروں میں مشتعل مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر دھاوا بولنے کی کوشش کی اور بعض مقامات پر پولیس اسٹیشن کو نذرِ آتش کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، جن میں ہوائی فائرنگ، ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کا استعمال شامل ہے، جس کے باعث حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت مجموعی طور پر 6 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں مختلف طبی مراکز میں منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ میں ملوث کئی افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق شہریوں کی جانب سے یہ احتجاج بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کرنسی کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر کے خلاف کیا جا رہا ہے، جبکہ دارالحکومت تہران سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے اب ملک کے دیگر بڑے اور چھوٹے شہروں تک پھیل چکے ہیں۔
یاد رہے کہ مغربی پابندیوں کے باعث ایرانی ریال مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔