افغانستان میں اس موسم کی پہلی شدید بارش اور برفباری نے طویل خشک سالی کا سلسلہ تو ختم کیا، مگر ملک کے مختلف علاقوں میں اچانک آنے والے سیلاب نے کم از کم 17 افراد کی جان لے لی اور 11 کو زخمی کردیا۔
افغانستان کے قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ترجمان کے مطابق ہلاک شدگان میں ہرات صوبے کے کابکان ضلع میں ایک گھر کی چھت گرنے سے 5 افراد شامل ہیں، جن میں 2 بچے بھی شامل تھے۔
شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے مرکزی، شمالی، جنوبی اور مغربی علاقوں میں روزمرہ زندگی متاثر ہوئی، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، مویشی ہلاک ہوئے اور قریباً 1,800 خاندان متاثر ہوئے، جس سے پہلے ہی نازک حالات میں رہنے والی شہری اور دیہی کمیونٹیز کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں جائزہ ٹیمیں بھیج دی ہیں، اور ضروری امداد کے لیے سروے جاری ہیں۔
دہائیوں کے تنازعات، ناقص انفراسٹرکچر، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے ایسے قدرتی آفات کے اثرات کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں جہاں زیادہ تر مکانات مٹی کے بنے ہیں اور اچانک آنے والے سیلاب سے محفوظ نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں نے اس ہفتے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں افغانستان دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک رہے گا۔ اقوام متحدہ اور امدادی شراکت داروں نے ملک میں قریباً 18 ملین افراد کی فوری امداد کے لیے 1.7 بلین ڈالر کی اپیل بھی کی ہے۔