اسلام آباد: دہشت گردوں کی ریکارڈ ہلاکتوں کے باوجود پاکستان میں سال 2025 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں دہشت گرد حملوں میں سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد جبکہ دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق سال بھر میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ہوئے۔
ان حملوں اور پرتشدد واقعات کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 34 افراد جاں بحق جبکہ 13 سو 66 افراد زخمی ہوئے، جو افغانستان میں سن 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری بڑھتے ہوئے تشدد کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ تفصیلات اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے جاری کی گئی پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سرحدی کشیدگی، عسکریت پسندوں کی واپسی اور خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک شدت پسندوں کی بدلتی ہوئی حکمت عملیاں ملک کے سکیورٹی چیلنجز کو مزید وسیع اور پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں سے 42 فیصد سے زائد سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے، جن میں 437 اہلکار جان سے گئے، جو محاذ پر شدید لڑائی اور فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ ان واقعات میں 354 عام شہری بھی جاں بحق ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 243 شدت پسند یا تو خودکش حملوں کے دوران مارے گئے یا سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ مجموعی طور پر تشدد کا زیادہ تر دائرہ علاقائی نوعیت کا رہا، جہاں 95 فیصد سے زائد حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروہوں کی مضبوط موجودگی دیکھی گئی۔ صوبے میں مجموعی طور پر 413 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 581 افراد جاں بحق اور 698 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو 11 اضلاع میں ہونے والے مربوط حملے ریاستی رٹ کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن کر سامنے آئے۔
بلوچستان میں سال 2025 کے دوران 254 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن کے نتیجے میں 419 افراد جاں بحق اور 607 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملوں میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ شدت پسند تنظیموں نے ہٹ اینڈ رن کارروائیوں سے آگے بڑھ کر شاہراہوں کی بندش، محاصرے اور اغوا جیسی منظم کارروائیاں کیں، جن کا مقصد معاشی ڈھانچے اور ریاستی علامات کو نشانہ بنا کر حکمرانی کو متاثر کرنا تھا۔
سندھ میں 21 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن میں کراچی میں پیش آنے والے 16 واقعات بھی شامل تھے، ان حملوں میں 14 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔
پنجاب میں سات دہشت گرد حملے ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تھے، ان واقعات میں پانچ افراد جاں بحق جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اسلام آباد میں عدالتی کمپلیکس کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد جان سے گئے۔
گلگت بلتستان میں تین دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن کے نتیجے میں تین سکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ چھ زخمی ہوئے۔