پاکستان اور چین نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے اور دو طرفہ سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
گزشتہ روز بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہونے والے ساتویں پاک چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں اہم سفارتی اور سکیورٹی امور پر پیش رفت کی تفصیل شامل ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق چین کی دعوت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 3 سے 5 جنوری تک چین کا دورہ کیا۔ پاک چین وزرائے خارجہ ملاقات میں جنوبی ایشیا میں امن و استحکام، یکطرفہ اقدامات کی مخالفت اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا گیا، جبکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ون چائنا پالیسی کے تحت تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرۂ چین کے معاملات پر چین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ چین نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق مذاکرات کے دوران پاک چین تعلقات، دفاعی اور سکیورٹی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک رابطے بڑھانے اور باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جبکہ 2026 میں سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریبات شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
پاک چین مذاکرات کے مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو نسل در نسل منتقل کیا جائے گا اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کیے جائیں گے، جبکہ پاک چین آہنی برادرانہ اور آل ویدر اسٹریٹجک تعلقات کی ایک بار پھر توثیق کی گئی۔
اعلامیے میں پاکستان کی جانب سے چین کی ترقیاتی کامیابیوں اور جدید کاری کے ماڈل کو سراہا گیا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور دو طرفہ سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سی پیک مرحلہ دوم، زراعت، معدنیات اور گوادر پورٹ پر تعاون میں اضافے پر بھی اتفاق رائے پایا گیا۔
مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون میں پیش رفت اور پاکستانی خلابازوں کی چینی خلائی اسٹیشن میں متوقع شمولیت پر بھی اتفاق کیا گیا، جسے دو طرفہ سائنسی تعاون میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔