ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے واضح کیا ہے کہ ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے والے عناصر کے ساتھ اب کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر رساں ادارے میزان کے مطابق چیف جسٹس نے عدالتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور تمام صوبوں کے پراسیکیوٹرز کو ہدایت کی کہ شرپسند عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر اور سخت کارروائی کی جائے۔
چیف جسٹس نے ملک میں حالیہ پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن عناصر ایران میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پرامن احتجاج کرنے والے شہریوں اور تخریب کاری میں ملوث عناصر کے درمیان واضح فرق کرتا ہے۔
غلام حسین محسنی کا کہنا تھا کہ عوامی اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کو قانون کے مطابق فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔
واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کے خلاف گزشتہ نو روز سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے خبر رساں ادارے ایچ آر اے این اے کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 19 ہو چکی ہے، جبکہ فائرنگ کے مختلف واقعات میں 50 سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔