اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلقات نے تاریخ میں پہلی بار ریکارڈ سطح کو چھو لیا ہے، جہاں پاک برطانیہ تجارت کا مجموعی حجم 5 اعشاریہ 5 ارب پاؤنڈ تک پہنچ گیا ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کی مؤثر حکمتِ عملی کے باعث پاکستان ترقی اور عالمی اعتماد کے ایک نئے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
برطانوی حکومت نے پاکستان کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری ازسرِنو استوار کرنے کا اعلان کیا ہے، جو برطانوی وزیر برائے ترقی کے دورۂ پاکستان کے دوران سامنے آیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید وسعت دینے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور برطانیہ نے آٹھ برس کے وقفے کے بعد ترقیاتی مکالمہ بحال کرنے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر اتفاق کیا ہے۔ برطانوی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی ترقی کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور برطانوی وزیر نے مشترکہ طور پر کاروباری اصلاحات کے ایک جامع پیکج کا اجرا بھی کیا، جس کا مقصد کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانا ہے۔
واضح رہے کہ رواں مالی سال کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی مثبت رجحان برقرار رہا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 731 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 524 نئی کمپنیوں کے ذریعے مجموعی طور پر 1 اعشاریہ 26 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی۔
چین، برطانیہ، جرمنی، جنوبی افریقہ، ویتنام، امریکہ اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک کی کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن کرائی، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں 71 فیصد حصے کے ساتھ چین سرفہرست رہا۔