پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹر پلوشہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو اس بات کا علم تک نہیں تھا کہ ان کے نام سے ایک آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے، جو ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک معاملہ ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کو باقاعدہ طور پر دھوکا دیا گیا ہے اور ان کے ساتھ ایک سوچا سمجھا عمل کیا گیا، جس پر فوری طور پر ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں جعلی آرڈیننس جاری کرنے کی فیکٹری بند ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی ڈگریوں کے بارے میں تو سب نے سنا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ جعلی آرڈیننس کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پلوشہ خان کے مطابق حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ سب غلطی سے ہوا، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ پاکستان اس قسم کی سنگین غلطیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا اور جو عناصر اس طرح کی حرکتوں میں ملوث ہیں، انہیں اپنی صفوں سے نکالنا ہوگا۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے حوالے سے کہا کہ پیپلز پارٹی نے انہیں سندھ میں خوش آمدید کہا، اس کے باوجود وہ مطمئن نظر نہیں آئے۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سڑک پر جلسہ کرنا چاہتے تھے، کیونکہ شاید وہ باغِ جناح کو بھرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔
پلوشہ خان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کا نجکاری کے معاملے پر ایک واضح اور دو ٹوک مؤقف ہے، اور اطلاعات ہیں کہ اب نجکاری کا عمل شپنگ سیکٹر کی طرف بڑھایا جا رہا ہے، جس پر پارٹی اپنی پالیسی کے مطابق ردعمل دے گی۔