ایران نے تقریباً پانچ گھنٹوں تک جاری رہنے والی عارضی بندش کے بعد اپنی فضائی حدود ایک بار پھر بین الاقوامی پروازوں کے لیے کھول دی ہیں، جس کے بعد ملک میں فضائی آمد و رفت بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے۔ اس عارضی پابندی کے دوران متعدد ایئرلائنز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران نے جمعرات کی رات مقامی وقت کے مطابق ایک بج کر پینتالیس منٹ پر اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے اور وہاں سے روانہ ہونے والی پروازوں کے علاوہ دیگر تمام بین الاقوامی پروازوں کے لیے فضائی راستے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم تقریباً پانچ گھنٹے بعد ایرانی حکام نے اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے فضائی حدود کی بندش ختم کر دی۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار چوبیس کے مطابق ایران نے جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چھ بجے اپنی فضائی حدود دوبارہ کھول دی، جس کے بعد بین الاقوامی پروازوں کو معمول کے مطابق گزرنے کی اجازت مل گئی۔
اس عارضی فضائی شٹ ڈاؤن کے باعث کئی عالمی ایئرلائنز کو اپنی پروازیں منسوخ یا معطل کرنا پڑیں، جبکہ متعدد پروازوں کو متبادل فضائی راستے اختیار کرنے پڑے، جس سے سفری شیڈول متاثر ہوا اور مسافروں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
ایران کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب امریکا کی جانب سے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر شدید ردعمل دیا جا رہا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان واقعات کے بعد اعلان کیا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ردعمل کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
تاہم بعد ازاں بدھ کی رات اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں مستند ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ایران میں قتل و غارت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے اور پھانسی کی سزاؤں پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر دوبارہ قتل عام شروع ہوا یا پھانسیوں کا عمل بحال کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دینے سے گریز نہیں کرے گا۔