پاکستان میں ادویات اور میڈیکل آلات کی برآمدات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جہاں مجموعی طور پر 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے ماہرین صحت اور تجارتی حلقے ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس نمایاں اضافے کی بنیادی وجوہات میں ادویات کی رجسٹریشن کے نظام میں اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، شفاف طریقۂ کار اور برآمدات کے لیے سہل ضوابط شامل ہیں۔
ڈریپ کے مطابق برآمدات کے فروغ کے لیے سرٹیفکیشن اور رجسٹریشن کے عمل کو غیر معمولی طور پر تیز کیا گیا ہے۔ ادویات کی برآمدی رجسٹریشن کا دورانیہ 60 دن سے کم کرکے صرف 10 دن کر دیا گیا ہے، جبکہ میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن اب 20 دن میں مکمل کی جا رہی ہے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ متعدد برآمدی سرٹیفکیٹس کے اجرا کا دورانیہ بھی نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے اور یہ سرٹیفکیٹس اب 30 دن کے بجائے صرف 5 دن میں جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے برآمد کنندگان کو فوری سہولت حاصل ہو رہی ہے۔
ڈریپ کے مطابق اس وقت ادارے کے 70 فیصد ریگولیٹری امور ڈیجیٹلائز کیے جا چکے ہیں، جبکہ مارچ تک مکمل ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آن لائن میڈیکل ڈیوائسز رجسٹریشن اور ای آفس سسٹم کے باعث فائلوں میں تاخیر اور تکنیکی غلطیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اتھارٹی نے بتایا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں جدید، جدید ترین اور جان بچانے والی طبی ٹیکنالوجیز اور ادویات مریضوں تک بروقت پہنچ رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی تھراپیز اور کینسر کے علاج سے متعلق مصنوعات کی منظوری کا دورانیہ بھی کم ہو کر تین ماہ رہ گیا ہے۔
ڈریپ حکام کے مطابق ادویات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے قومی سطح پر کوالٹی کنٹرول لیبارٹری نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کو بھی عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان جامع اصلاحات سے نہ صرف پاکستان کی ادویات اور میڈیکل ڈیوائسز کی برآمدات میں مزید اضافہ متوقع ہے بلکہ عوام کو محفوظ، معیاری اور مؤثر ادویات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔