گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو بطور جماعت ایک واضح اور متفقہ مؤقف اختیار کرنا ہوگا، کیونکہ صوبے کے وزیراعلیٰ خود یہ نہیں جانتے کہ اصل صورتحال کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عوام میں ابہام پیدا ہو رہا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس وقت ایسے رویے کا مظاہرہ کر رہی ہے جیسے دوبارہ فٹبال میچ کھیلا جا رہا ہو، جہاں ایک دوسرے کو صرف پاسز دیے جا رہے ہیں اور کوئی واضح سمت نظر نہیں آتی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پہلی بریفنگ ہی سکیورٹی صورتحال سے متعلق ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب علی امین وزیراعلیٰ تھے تو وہ بات چیت پر زور دیتے تھے، جبکہ اب یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ افغانستان اس میں ملوث ہے۔ ان کے مطابق ایک طرف دہشتگردی کی بات کی جا رہی ہے اور دوسری جانب اس کی تردید بھی سامنے آ رہی ہے۔
انہوں نے دوبارہ اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کو بطور پارٹی ایک واضح لائن لینا ہوگی، کیونکہ صوبے کے وزیراعلیٰ کی جانب سے صورتحال کے بارے میں کوئی حتمی مؤقف سامنے نہیں آ رہا۔