وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اب یہ طے کرنا ہوگا کہ افغانستان پُرامن طور پر رہنا چاہتا ہے یا نہیں، جبکہ افغان عبوری حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام پر رحم کرے اور خطے میں عدم استحکام کا باعث نہ بنے۔
خیبرپختونخوا سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کا قیام اب ناگزیر ہو چکا ہے اور اس کے لیے ہر سطح پر سنجیدہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچا کر مثبت اور تعمیری سمت میں لے جانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، کیونکہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور ان کی درست رہنمائی قومی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا، کیونکہ قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ریاست پوری طرح پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی، جس کے نتیجے میں پاکستان کا وقار اور تشخص عالمی سطح پر بلند ہوا اور دنیا نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو تسلیم کیا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان معاشی طور پر مسلسل مضبوط ہو رہا ہے اور معاشی ترقی کے سفر میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، تاہم ترقی کی شرح کو مزید تیز کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر پنجاب ترقی کرے اور دیگر صوبے ترقی نہ کریں تو اسے پاکستان کی مجموعی ترقی نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ ملک اسی وقت حقیقی ترقی کرے گا جب تمام صوبے یکساں طور پر ترقی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دیگر صوبوں نے اپنے حصے سے 800 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ بلوچستان کے لیے پنجاب نے اپنے حصے سے 100 ارب روپے دیے، جو قومی یکجہتی کی واضح مثال ہے۔